نعتِ رسولِ مقبول ﷺ | غلام مزمل عطاؔ اشرفی کا نعتیہ کلام

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کیے گئے یہ دونوں نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ، امیدِ کرم، نسبتِ نبوی ﷺ، درود و سلام، مدینہ منورہ سے محبت اور شوقِ زیارت کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ شاعر نے عقیدت و محبت کی کیفیات کو سادہ، رواں اور دل نشیں شعری پیرایے میں پیش کیا ہے۔
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

سرِ حشر وہ آسرا کر رہے ہیں
جو آقا ﷺ کی مدح و ثنا کر رہے ہیں

کرم کی جو ہم التجا کر رہے ہیں
نبی ﷺ کے وسیلے دعا کر رہے ہیں

الست کی محفل کے بھولے مسافر
انھی کے وسیلے وفا کر رہے ہیں

شبِ تیرہ و تار کے سرد لمحے
درودوں سے خود کو جلا کر رہے ہیں

شبِ تار میں گم ہوئی روح کو ہم
چراغِ رخِ مصطفیٰ ﷺ کر رہے ہیں

چراغِ دل و جاں جلا کر سرِ بزم
وہ ظلمت کو نورِ ہدیٰ کر رہے ہیں

گناہوں کی بارش میں بھیگے ہوئے دل
کرم کی طرف التجا کر رہے ہیں

مرے اشکِ عصیاں کو زمزم بنا کر
کرم کی وہ ایسی دوا کر رہے ہیں

میں مٹی تھا، مٹی ہی رہتا مگر وہ
مری خاک کو کیمیا کر رہے ہیں

شبِ ہجر میں جب لیا نامِ احمد ﷺ
مرے زخم بھی خود دعا کر رہے ہیں

غلامی کو معراج جان کر رہے ہیں
عقیدت میں خود کو فنا کر رہے ہیں

کسی اور در کی ضرورت نہیں اب
درِ مصطفیٰ ﷺ سے دوا کر رہے ہیں

عطاؔ اپنے لفظوں کے ٹوٹے صحیفے
نبی ﷺ کے سبب خوش نما کر رہے ہیں

صاحبِ کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

کبھی جو دل پہ میرے ہے بسی اترتی ہے
درِ رسول ﷺ پہ آنکھوں کی شب گزرتی ہے

میں اپنے عیب لیے کس کے در پہ جاؤں گا
مجھے حضور ﷺ کی چوکھٹ ہی یاد آتی ہے

گناہ اتنے کہ ہر سانس بوجھ لگتی ہے
مگر یہ آس مدینے سے لو لگاتی ہے

سکوتِ شب میں درودوں کی نرم لہروں پر
خیالِ آقا میں رو رو کے شب گزرتی ہے

میں رو پڑوں تو فرشتے میں شور ہو جائے
یہ اشک ابرِ کرم کی بہار لاتی ہے

کسی کے عشق میں ایسا سکوں کہاں ملتا
جو یادِ شہرِ مدینہ سکوں دلاتی ہے

مرے نصیب میں خاکِ مدینہ ہو جائے
یہ روح جانے کو طیبہ بہت ترستی ہے

مجھے بھی کاش مدینہ میں موت آ جائے
یہ موت روح کی معراجِ خاص ہوتی ہے

عطاؔ یہ دردِ محبت بھی اک کرم ہی ہے
پڑی کسک تو مدینہ مجھے بلاتی ہے

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post